مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے ٹی ایچ ڈی سی کی جانب سے بھارت کے پہلے ویری ایبل اسپیڈ پمپڈ اسٹوریج پلانٹ، ٹہری پی ایس پی کے پہلے یونٹ کے سی او ڈی کے آغاز کی ستائش کی
مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے ٹی ایچ ڈی سی کی جانب سے بھارت کے پہلے ویری ایبل اسپیڈ پمپڈ اسٹوریج پلانٹ، ٹہری پی ایس پی کے پہلے یونٹ کے سی او ڈی کے آغاز کی ستائش کی
ٹی ایچ ڈی سی انڈیا لمیٹڈ ( ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل ) نے اتراکھنڈ کے ٹہری میں 1000 میگاواٹ کے ویری ایبل اسپیڈ پمپڈ اسٹوریج پلانٹ ( پی ایس پی ) کی پہلی یونٹ (250 میگاواٹ) کے کامیاب آغاز برائے کمرشل آپریشن ڈیٹ ( سی او ڈی ) کا اعلان کیا ہے۔
یہ تاریخی سنگِ میل بھارت کی قابلِ تجدید توانائی کے سفر میں ایک اہم پیش رفت ہے، جس سے ٹہری پی ایس پی ملک کا پہلا ویری ایبل اسپیڈ پمپڈ اسٹوریج پلانٹ بن گیا ہے اور یہ کسی بھی مرکزی عوامی شعبے کے ادارے ( سی پی ایس ای ) کی جانب سے قائم کردہ سب سے بڑا پلانٹ بھی ہے۔
اس تقریب میں حکومت ہند کے بجلی ، مکانات اور شہری امور کے مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے بھی شرکت کی ۔
بجلی کے شعبے کی ممتاز شخصیات بشمول حکومتِ ہند کی وزارتِ بجلی میں سکریٹری جناب پنکج اگروال (آئی اے ایس)؛ ایڈیشنل سکریٹری، وزارتِ بجلی جناب آکاش ترپاٹھی (آئی اے ایس)؛ چیئرمین و مینیجنگ ڈائریکٹر، این ٹی پی سی جناب گُردیپ سنگھ؛ چیئرمین و مینیجنگ ڈائریکٹر، ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل جناب آر کے وشنوئی ؛ ڈائریکٹر (عملہ )، ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل جناب شیلندر سنگھ؛ ڈائریکٹر (ٹیکنیکل) ، ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل جناب بھوپندر گپتا ؛ اور ڈائریکٹر (فائنانس)، ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل جناب سیپن کمار گرگ بھی اس موقع پر موجود تھے۔
حکومت ہند کے بجلی ، مکانات اور شہری امور کے مرکزی وزیر جناب منوہر لال نے اپنے خطاب میں کہا کہ ٹہری میں بھارت کے پہلے ویری ایبل اسپیڈ پمپڈ اسٹوریج پلانٹ کی پہلی یونٹ کا کامیاب آپریشن نہ صرف ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل کی ایک تکنیکی کامیابی ہے، بلکہ توانائی کے شعبے میں بھارت کی خود کفالت کی جانب ایک جرات مندانہ قدم ہے۔ یہ پروجیکٹ ہمارے گرڈ کے استحکام کو مضبوط کرے گا اور قابلِ تجدید توانائی کے انضمام میں مدد دے گا۔ ویری ایبل اسپیڈ ٹیکنالوجی ہمیں توانائی کی ترسیل کو درستگی کے ساتھ کنٹرول کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہے، جو ہمارے توانائی کے نظام کو زیادہ اسمارٹ اور لچکدار بناتی ہے۔
مرکزی وزیر نے ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل کی پوری ٹیم، نفاذ میں شریک شراکت داروں اور ان تمام افراد کو مبارکباد دی ، جنہوں نے اس تاریخی کامیابی میں براہِ راست یا بالواسطہ طور پر کردار ادا کیا۔
بجلی کی وزارت میں سکریٹری جناب پنکج اگروال نے اس یونٹ کو شامل کئے جانے کو ایک انقلابی سنگِ میل قرار دیتے ہوئے کہا کہ ٹہری میں ویری ایبل اسپیڈ پمپڈ اسٹوریج پلانٹ ایک اہم پیش رفت ہے ، جو ہمارے گرڈ کی لچک کو نمایاں طور پر مضبوط کرتا ہے۔ یہ منصوبہ قابلِ تجدید توانائی کے بڑھتے ہوئے انضمام اور صاف ستھری ، پائیدار اور قابلِ بھروسہ بجلی کے نظام کی طرف منتقلی کے مشن میں مرکزی کردار ادا کرتا ہے۔
چیئرمین و مینیجنگ ڈائریکٹر، این ٹی پی سی جناب گُردیپ سنگھ نے بھی مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ یہ سنگِ میل ہائیڈرو پاور سیکٹر میں بھارتی عوامی شعبے کے اداروں کی اعلیٰ انجینئرنگ صلاحیتوں کا مظہر ہے۔ یہ پورے ملک میں مستقبل کے پمپڈ اسٹوریج پروجیکٹس کے لیے ایک مضبوط مثال قائم کرتا ہے۔
چیئرمین و مینیجنگ ڈائریکٹر، ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل، جناب آر کے وشنوئی نے اس اہم کامیابی پر دلی مبارکباد پیش کی اور کہا کہ جب یہ منصوبہ مکمل طور پر فعال ہو جائے گا تو ٹہری ہائیڈرو پاور کمپلیکس کی مجموعی صلاحیت 2400 میگاواٹ تک پہنچ جائے گی، جو اسے بھارت کا سب سے بڑا ہائیڈرو پاور کمپلیکس بنا دے گا۔ یہ منصوبہ کم اور زیادہ طلب کے اوقات میں دستیاب فاضل بجلی کو پیکنگ پاور میں تبدیل کرنے میں مدد دے گا، جس سے گرڈ کی مضبوطی میں اضافہ اور بجلی کی چوبیس گھنٹے دستیابی کو یقینی بنایا جا سکے گا۔
لچکدار پیکنگ پاور اور اہم گرڈ بیلنسنگ سپورٹ فراہم کرنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا، ٹہری ویری ایبل اسپیڈ پمپڈ اسٹوریج پلانٹ بھارت کی وقفے وقفے سے حاصل ہونے والی قابلِ تجدید توانائی کے انتظام کی صلاحیت میں ایک بڑی پیش رفت کی نمائندگی کرتا ہے۔ اس یونٹ کی شمولیت کا سنگِ میل نہ صرف ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل کے جدید ہائیڈرو پاور حل میں قیادت کو مزید مستحکم کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی صاف توانائی کی ساکھ کو بھی مضبوط بناتا ہے۔
250 میگاواٹ کی ویری ایبل اسپیڈ پمپڈ اسٹوریج ہائیڈرو پاور یونٹ کے ساتھ پاور الیکٹرانکس اور کنٹرول سسٹمز جی ای ورنووا نے فراہم کیے ہیں۔ جی ای ورنووا ایک عالمی توانائی کمپنی ہے ، جو ہائیڈرو پاور سے توانائی حاصل کرنے اور قابلِ بھروسہ توانائی کے حل فراہم کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجیز تیار کرتی ہے۔
اس موقع پر ایگزیکٹو ڈائریکٹر (ٹہری کمپلیکس)، ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل، جناب ایل پی جوشی کے علاوہ ٹی ایچ ڈی سی آئی ایل کے سینئر افسران، جی ای ورنووا، ایچ سی سی اور دیگر اہم شراکت داروں پر مشتمل پروجیکٹ کنسورشیم کے نمائندگان بھی موجود تھے۔
*******