بھارتی ریلوے نے غیر مجاز خودکار بکنگ پر کریک ڈاؤن کیا؛ حقیقی صارفین کے لیے ویب سائٹ کی رسائی میں اضافہ
بھارتی ریلوے نے غیر مجاز خودکار بکنگ پر کریک ڈاؤن کیا؛ حقیقی صارفین کے لیے ویب سائٹ کی رسائی میں اضافہ
بھارتی ریلوے نے اپنی ٹکٹنگ انفراسٹرکچر میں شفافیت، سیکیورٹی اور صارف کے تجربے کو بہتر بنانے کے لیے ایک جامع ڈیجیٹل تبدیلی کا آغاز کیا ہے۔ جدید اینٹی بوٹ نظاموں کی تعیناتی اور معروف کانٹینٹ ڈیلیوری نیٹ ورک (سی ڈی این)سروس پرووائیڈر کے ساتھ انضمام کے ذریعے، ریلوے نے غیر قانونی خودکار بکنگ کو نمایاں طور پر کم کیا ہے اور ویب سائٹ کی رسائی کو حقیقی صارفین کے لیے بہتر بنایا ہے۔
نئے نظام نے تمام بوٹ ٹریفک کو مؤثر طریقے سے کم کر دیا ہے، جو خاص طور پر ٹاٹ کال کی ابتدائی پانچ منٹوں میں عروج پر ہوتا ہے۔ اس دوران بوٹ ٹریفک کل لاگ ان کوششوں کا تقریباً 50 فیصد حصہ ہوتا ہے۔ اس بہتری کے نتیجے میں 2.5 کروڑ مشتبہ صارف شناختیں غیر فعال کی گئی ہیں تاکہ ٹکٹ کی بکنگ میں شفافیت یقینی بنائی جا سکے۔
22 مئی 2025 کو ایک نمایاں سنگ میل طے کیا گیا جب ایک منٹ میں ریکارڈ 31,814 ٹکٹ بک کیے گئے، جو اپ گریڈ شدہ پلیٹ فارم کی مضبوطی اور توسیع پذیری کا مظہر ہے۔
منصفانہ اور موثر ٹکٹنگ کو مزید بہتر بنانے کے لیے نئے صارف پروٹوکول متعارف کروائے گئے ہیں۔ ایسے صارفین جو آدھار کے ذریعے توثیق شدہ نہیں ہیں، وہ اوپننگ اے آر پی، ٹاٹ کال یا پریمیم ٹاٹ کال ٹکٹ صرف رجسٹریشن کے تین دن بعد بک کر سکیں گے، جبکہ آدھار تصدیق شدہ صارفین بلا تاخیر ٹکٹ بک کر سکتے ہیں۔
ان اقدامات کے نتیجے میں قابلِ پیمائش بہتری آئی ہے۔ مالی سال 2023–24 میں یومیہ اوسط صارف لاگ ان 69.08 لاکھ سے بڑھ کر مالی سال 2024–25 میں 82.57 لاکھ ہو گئی، جو 19.53 فیصد اضافہ ہے، جبکہ اسی عرصے میں یومیہ اوسط ٹکٹ بکنگ میں 11.85 فیصد اضافہ دیکھا گیا۔ مزید برآں، ای-ٹکٹنگ اب کل ریزروڈ ٹکٹ بکنگ کا 86.38 فیصد حصہ بنتی ہے۔
سسٹم میں کی گئی اپ گریڈز میں شامل ہیں:
بھارتی ریلوے، آئی آر سی ٹی سی کے ذریعے، ایک آسان، محفوظ اور صارف دوست ٹکٹنگ تجربہ فراہم کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ مسلسل جدت اور جدید کاری اس بات کو یقینی بنانے کے لیے مرکزی حیثیت رکھے گی کہ ملک بھر کے لاکھوں مسافروں کو منصفانہ رسائی حاصل ہو اور ان کے مفادات کا تحفظ ہو۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔